خود نمائی

قسم کلام: اسم کیفیت ( واحد )

معنی

١ - خود نما کا اسم کیفیت، دکھاوے کا عمل، (مجازاً) نمود و نمائش شیخی، غرور، خود پسندی۔ "لیکن کسی قسم کا تکبر یا خود نمائی چھو کر بھی نہیں گئی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٤٥ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ لفظ 'خود' کے ساتھ فارسی مصدر 'نمودن' سے فعل امر 'نما' کے ساتھ 'ئی' بطور لاحقۂ کیفیت لگانے سے مرکب 'خودنمائی' بنا۔ اردو میں بطور اسم مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء کو "خاور نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - خود نما کا اسم کیفیت، دکھاوے کا عمل، (مجازاً) نمود و نمائش شیخی، غرور، خود پسندی۔ "لیکن کسی قسم کا تکبر یا خود نمائی چھو کر بھی نہیں گئی تھی۔"      ( ١٩٨١ء، آسماں کیسے کیسے، ٤٥ )